شریعت، جمہوریت اور اعتدال — ایک اصولی بات۔ آج ہر شخص اپنی جماعت کو حق اور دوسروں کو باطل سمجھنے لگا ہے، حالانکہ یہ رویہ نہ قرآن کا ہے اور نہ سلفِ صالحین کا۔ اعتدال یہ ہے کہ حق کو دلیل سے پہچانا جائے، نہ کہ جماعت سے۔ ایک موقع پر شیخ نور الہدیٰ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ: کچھ عرصہ تک ہم بھی جمہوریت کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا رہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے مولانا صوفی محمد رحمہ اللہ کے ذریعے ہمیں اس سے نجات دی۔ تاہم چونکہ جمہوریت ایک فتنہ ہے، اس لیے اس میں شرکت کی بنیاد پر کسی کی تضلیل یا تکفیر قطعاً جائز نہیں۔ یہ بات انتہائی اہم اصول واضح کرتی ہے: 🔹 جمہوریت کو فتنہ کہنا اس بات کی دلیل نہیں کہ اس میں شرکت کرنے والا کافر ہے۔ 🔹 اجتہادی خطا، دینی انکار نہیں ہوتی 🔹 شرکت، رضامندیِ قلبی کی دلیل نہیں 🔹 اختلاف، تکفیر اور تضلیل کا جواز نہیں بنتا۔ مولانا فضل الرحمان صاحب سے ان کی سیاست کی بنیاد پر اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن انہیں دین دشمن یا گمراہ قرار دینا نہ دیانت ہے، نہ اعتدال، نہ سلف کا منہج۔ اہلِ سنت کا طریقہ یہی رہا ہے کہ: افراد کو نہیں، افعال کو پرکھا جائے نیتوں کا فیصلہ اللہ پر چھوڑا جائے اور اختلاف میں ادب اور خیر خواہی باقی رکھی جائے۔ جمہوریت پر تنقید ہو سکتی ہے، مگر مسلمانوں کی تکفیر نہیں۔ یہی اعتدال ہے، یہی حق کا راستہ۔ | REAB